کیا خُدا میرا بھی ہے ؟

From Big Picture: Scenes from Pakistan (AP Photo/Emilio Morenatti)

From Big Picture: Scenes from Pakistan (AP Photo/Emilio Morenatti)

کیا خُدا میرا بھی ہے ؟

بُھوک کے ہاتھوں میں

کھیلتی ہوئی میری سَانسیں

ظُلم کے پَنجوں میں

۔جَکڑی ہوئی میری آہیں

۔بِے بسی سے َتکتی ہیں

چار سُو میری آنکھیں

جیسے رحِم کی مُتلا شی ہوں

آج پھرپُوچھتی ہیں

کیا خالی ہاتھہ گھر لوٹ کر جاؤ گے ؟

بَچوں کو آج پھر

بھوکا سُلاؤ گے ؟

کیا خود بھی سُو پاؤ گے ؟

میرے اِرد گرد یہ

رُوشنیوں کا جُو میلہ ہے

گاڑیوں کا ریلا ہے

اِن کے درمیاں

ننگے پاؤں ننگے سر

میرا وجُود ، کس قدر اکیلا ہے

رُوز پُوچھتا ہوں خُود سے

کیا خُدا میرا بھی ہے ؟

احمد ضُحٰی

چُپ

چُپ کے بَنھور سے لڑتے,تُم

بے سِمت مُسافِر بن بیٹھے


آنکھیں تُو صِحرا صِحرا ہیں

خُواب جو سارے رُو بیٹھے


وہ سایہ جو تُجھـ سے لپٹا تھا

کِس چَھاؤں میں اُسکو کھو بیٹھے


حَرفوں کو کیا رَنگ دو گے ؔاحمد
رَنگ تو سارے دھُو بیٹھے